٦٢۔ بگڑی بنالئے ہیں

 

 

گوھر مکان میں ہم ایک گھر بنالئے ہیں!

عکس رخ منور دل میں سما لئے ہیں!!

 

کیوں فیض ہم نہ پائیں اب تیرے آستاں سے!

اپنی جبین الفت در پر جھکا لئے ہیں!!

 

جو درد میں ہے لذت وہ ہم سے کوئی پوچھے!

جو غم ہے تو نے بخشاوہ غم اٹھا لئے ہیں!!

 

آنکھوں سے تو نے اپنی کیا خوب مئے پلائی!

تیر کرم سے ہم نے بگڑی بنا لئے ہیں!!

 

نقش قدم پہ تیرے ہم نے جبیں جھکائی!

بس ایک سجدا کر کے ہم تجھ کو پا لئے ہیں!!

 

ہم بے خودی میں اپنی تجھ کو پکارتے ہیں!

روکا کسی نے ہم کو محشرا ٹھالئے ہیں!!

 

چاہوں اگر میں بولوں زار شراب کیا ہے!

داور زباں کواپنی ہم نے کٹالئے ہیں!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔