٥٩۔ نایاب گوھر کھو دئے

 

 

آج ہم تنہائی پاکر رودئے!

ایک ہم نایاب گوھر کھو دئے!!

 

تھا بہاروں کا زمانہ ہرطرف!

گلستاں ویران پاک رودئے!!

 

کیا گئے اٹھ کر جہاں سے مرشداں!

ایک صورت کو بسا کر رودئے!!

 

یاد اس دل سے نہیں جاتی کبھی!

اشک آنکھوں سے بہا کر رودئے!!

 

ہر گھڑی زنده تھا دل ہر ایک کا!

دل کو دیوانہ بنا کر رو دئے!!

 

وہ حسیں چہرہ نظر آتا نہیں!

آئینہ ہم خالی پاکر رو دئے!!

 

تشنہ کامی کا کریں کس سے گلہ!

آستاں پر ہم تو جاکر رو دئے!!

 

جام و عرفاں وہ پلاتے تھے ہمیں!

میکدہ سنسان پاکر رو دئے!!

 

آج بھی داور وہ ملتے ہیں وہ!

ہر گھڑی سجدہ میں جاکر رو دئے!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔