٥٧۔ میری بند گی کے پیچھے

 

 

میں لٹا چکا ہوں ہستی تری دوستی کے پیچھے!

کبھی میں خوشی کے آگے کبھی میں خوشی کے پیچھے!!

 

جو نماز ہے ہماری نہ سمجھ سکےگا زاھد!

ترا کعبہ بھی پڑا ہے  میری  بندگی کے پیچھے!!

 

یہ عطائے ساقیا ہے کہ نہیں ہوں تشنہ میں بھی!

کئی جام چل کے آۓ  میری  میکشی کے پیچھے!!

 

جو میں چاہوں آستان کو ابھی اپنے سر یہ رکھ لوں!

ابھی اور مرحلے ہیں  میری  بندگی کے پیچھے!!

 

میں جنوں نواز بھی ہوں مگر ہے خرد سے نسبت!

میں گیا نہیں ہوں ابتک کسی اجنبی کے پیچھے!!

 

سر انجمن تو مجھ کو ترا ہرستم گوارا!

ہے تیرا کرم بھی شامل تری بے رخی کے پیچھے!!

 

ہوں رفیق میکدہ کا بڑا ہو شیار میکش!

کئی ہاتھ بڑھ رہے ہیں  میری  سادگی کے پیچھے!!

 

جسے اہل درد ترسے یہ ہے خوشی نصیبی داور!

مجھے ایسا غم ملا ہے غم عاشقی کے پیچھے!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔