٥٦۔ جام دے قادر

 

 

عشق احمد کا جام دے قادر!

زندہ دل نیک نام دے قادر!!

 

کام آجائے حشر میں ہم کو!

ہم کو ایسا وہ کام دے قادر!!

 

ہر برائی سے تو بچا ہم کو!

چا ہے ادنی مقام دے قادر!!

 

امتی ہیں تو ہم محمد کے!

نام کا ان کے جام دے قادر!!

 

زندگی گذرے بس مدینے میں!

ایسی ہر صبع شام دے قادر!!

 

مال و دولت سے واسطہ ہی نہیں!

ہم کو شیریں کلام دے قادر!!

 

نزع کے وقت کلمہ ہو لب پر!

کچھ تو اب اہتمام دے قادر!!

 

سرخروئی کا تاج ہو سر پر!

حشر میں وہ مقام دے قادر!!

 

ہم  تیرے تشنہ کام بندے ہیں!

حوض کوثر کا جام دے قادر!!

 

آرزو کچھ نہیں ہے اسکے سوا!

ذکر بس صبح و شام دے قادر!!

 

اپنے داور پہ ایک نظر کرم!

خاص بندوں میں نام دے قادر!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔