٥٥۔ میرے قادر یہی آرزو ہے

 

 

میرے قادر یہی آرزو ہے  میری  نزع میں یہ نظرآستاں پر رہے!

جسم سے روح جب وقت نکلے میرے کلمہ مصطفےا اس زباں پر رہے!!

 

ذکر کرتا ہوں رب العلی کا سد روبرو میرے سجدوں کے مسجود ہے!

میرا دل کوئی کعبہ سے کم تو نہیں میرا معبود آخر کہاں پر رہے!!

 

ہم نے اک بت کو مانا تھا اپنا خدا روز سجدوں پہ سجدے میں کرتا اسے!

اب تو یہ حال ہے وصل ہوتا نہیں یونہی کب تک کوئی درمیاں پر رہے!!

 

میں نہ اس سے الگے وہ نہ ہم سے جدا نحن وا قرب گواہی کو موجود ہے!

وہ تو ہر وقت ہے ہم نزدیک تر ساتھ اپن ہے وہ ہم جہاں پر رہے!!

 

کیا نکیریں کریں آکے مجھ سے سوال خود ہی مجھ میں تھا موجود وہ ذالجلال!

وہ بھی آدم میں تھا میں بھی آدم میں تھا تم بھی سجدہ جو کرتے وہاں پر رہے!!

 

بس یہی فکر میں زندگی کھودیا کھول آمال میرا تم دیکھو ذرا!

تم تو ساجد تھے میں بھی تو مسجود تھا دیکھ کر سب وہ حیراں جہاں پر رہے!!

 

اسطرح سے ہمارے وہ ہے ساتھ میں جیسے لا ورا الا ایک مرکز پہ ہیں!

دوستی ایسی ہم دونوں کی ہوگئی لا نفی اور الا جیسے ہاں پر رہے!!

 

میری صورت ہے وہ اسکی مورت ہوں میں جسم دو ہیں مگر قلب تو ایک ہے!

میں مکیں بن کے موجود ہے جسم میں اور ہم لا مکاں سے مکاں پر رہے!!

 

قادری سروری کے ہمیں نور ہیں ہم پہ گوہر منور کا لطف کرم!

ہم رفیقی ہیں داور ہمیں ناز ہے ہم زمیں نہیں آسماں پر رہے!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔